ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹوں کی منسوخی اور ہڑتال سے سونے کی مانگ میں زبردست کمی

نوٹوں کی منسوخی اور ہڑتال سے سونے کی مانگ میں زبردست کمی

Sat, 04 Feb 2017 08:19:08    S.O. News Service

بنگلور۔3 فروری (ایس او نیوز) نوٹوں کی منسوخی اور طویل ہڑتال کی وجہ سے سال 2016 میں ملک میں سونے کے زیورات کی مانگ 22 فیصد گھٹ کر 514 ٹن رہ گئی۔ سال 2015 میں یہ662.3 ٹن تھی۔ورلڈ گولڈ کونسل کی طرف سے جاری اعداد و شمار میں آج کہا گیا ہے کہ ہندوستانی مانگ میں 148.3 ٹن کی کمی اس کے ریکارڈ میں اب تک کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ ساتھ ہی ملک میں سرمایہ کاری کی مانگ بھی سال 2015 کے 194.9 ٹن سے 17.09 فیصد گھٹ کر 161.6 ٹن رہ گئی۔ اس طرح مجموعی مانگ 857.2 ٹن سے 21.19 فیصد کم ہوکر 675.6 ٹن رہ گئی۔تاہم اب بھی چین کے بعد سونے کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہندوستان ہی بنا ہوا ہے۔ چین میں سال 2015 میں مجموعی مانگ 981.5 ٹن تھی جو 6.92 فیصد گھٹ کر 913.6 ٹن رہ گئی۔کونسل نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ سال 2016 میں ہندوستان میں سونے کے اعداد و شمار جمع کرنے کیلئے کافی چیلنج تھے۔ پہلی سہ ماہی میں صرافہ تاجروں کی ملک بھر میں ہڑتال نے سونے کی صنعت کو تقریبا پوری طرح ٹھپ کر دیاتھا۔چوتھی سہ ماہی میں جب غیر اعلانیہ آمدنی پر لگام کسنے کے لئے حکومت نے 500اور 1000کے نوٹوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تو دوبارہ مشکلات پیش آئیں۔ اس سے سونے کی کچھ مانگ گرے مارکیٹ (بلیک مارکیٹ) میں منتقل ہو گئی۔ جب اس کے بارے میں مزید اعداد و شمار سامنے آئیں گے تو اپنے تخمینے میں اس کے مطابق تبدیلی کر سکتے ہیں۔ موجودہ سال کے بارے میں کونسل کا کہنا ہے کہ حالاں کہ نوٹوں کی منسوخی کا سب سے زیادہ اثر دیہی کمیونٹی پر پڑا ہے، لیکن یہ اثرات عارضی رہنے کی توقع ہے۔اچھے مانسون کے بعد کسانوں کی اچھی آمدنی سے مستقبل میں سونے کی مانگ بڑھنی چاہیے۔گزشتہ مانسون اچھا تھا اور دیہی آمدنی میں تقابلی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ یہ سونے کی مانگ کے لئے نیک فال ہے۔کونسل کے مطابق سال 2017 کے قبل چند ہفتوں میں مانگ سست رہی کیونکہ انڈسٹری سونے پر کسٹم کی شرح کی تصدیق کے لئے بجٹ کا انتظار کر رہی تھی۔ ساتھ ہی رواں سال کے آخری حصہ میں جی ایس ٹی کی شرح کے بارے میں مزید وضاحت آنے سے موخر کردہ خریداری سے اچھی مانگ کی توقع کرتے ہیں۔عالمی سطح پر بھی مانگ میں 15 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ سال 2015 کے 2388.6 ٹن سے کم ہوکر 2016 میں 2041.6 ٹن رہ گئی جو سات سال کی نچلی سطح ہے۔


 


Share: